الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا: