کہہ دیجیے!کس نے حرام کی زینت اللہ کی،وہ جوپیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے؟ اور پاکیزہ چیزیں رزق کی؟ کہہ دیجیے! یہ ان لوگوں کے لیے(بھی) ہیں جو ایمان لائے،زندگی میں دنیا کی،جبکہ خاص ہوں گی(ان کے لیے) دن قیامت کے،اس طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیات ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (32) کہہ دیجیے! بے شک حرام ٹھہرایا ہے میرے رب نے بے حیائی کی باتوں کو،جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ،اور گناہ کو اور ظلم کو بغیر حق کے،اور یہ کہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اللہ کے اس چیز کو کہ نہیں اتاری اللہ نے اس کی کوئی دلیل،اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں تم جانتے(33)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیرکرتا ہے جو تکلف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے ﴿قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِيۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ، ان کو کس نے حرام کیا ہے؟‘‘ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں ؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے طیبات کو اس لیے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں ۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لیے مباح کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿ قُلۡ هِيَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾کہہ دیجیے! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں ، خالص انھی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن‘‘ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لیے خالص ہیں نہ ان کے لیے مباح بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان کے لیے جو جانتے ہیں ‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چنانچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں ۔
[33] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محرمات کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تمام شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! بے شک میرے رب نے حرام کیا ہے بے حیائی کی باتوں کو‘‘ یعنی بڑے بڑے گناہ جن کی برائی اور قباحت کی وجہ سے ان کو فحش اور سخت قبیح سمجھا جاتا ہے ، مثلاً: زنا، سدومیت (عمل قوم لوط) وغیرہ۔ ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں ‘‘ یعنی وہ فواحش جن کا تعلق بدن کی حرکات سے ہے اور وہ فواحش جن کا تعلق قلب کی حرکات سے ہے ، مثلاً: تکبر، خود پسندی، ریا اور نفاق وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاِثۡمَ وَالۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ﴾ ’’اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو‘‘ یعنی گناہ کے اعمال جو گناہ میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں سزا کے موجب ہیں اور (بَغْی) سے مراد ہے لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس میں ان پر زیادتی وغیرہ۔ پس اس میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شرک پر کوئی دلیل و برہان نازل نہیں فرمائی بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توحید کی تائید کے لیے دلائل و براہین نازل فرمائے ہیں اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ بسااوقات شرک اصغر بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے، مثلاً:ریا اور غیر اللہ کی قسم وغیرہ۔﴿ وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اس بات کو کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی اس کے اسماء و صفات اور افعال اور اس کی شریعت کے بارے میں لاعلمی پر مبنی بات کہنا۔ ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو ان میں مشغول ہونے سے روکا ہے کیونکہ یہ امور مفاسد عامہ اور مفاسد خاصہ پر مشتمل ہیں اور یہ امور ظلم و تعدی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں جسارت و جرأت کے موجب، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر دست درازی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تغیر و تحریف کا باعث ہیں ۔