اور ان کے درمیان پردہ ہوگااوراوپر اعراف کے کچھ لوگ ہوں گے، جو پہچانتے ہوں گے ہر ایک کو ان کی خاص علامات سےاور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلام ہوتم پر، نہ داخل ہوئے ہوں گے وہ جنت میں (ابھی تک) اور وہ امید رکھتے ہوں گے(46) اور جب پھیری جائیں گی ان کی آنکھیں طرف دوزخیوں کی،تو وہ کہیں گے!اے ہمارے رب!نہ کر تو ہمیں ساتھ ظالم لوگوں کے(47) اور پکار کر کہیں گے اعراف والے کچھ ایسے لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی خاص علامات سے، کہیں گے کہ نہیں فائدہ دیا تمھیں تمھارے جتھے نے اور(نہ اس نے) جو تھے تم تکبر کرتے(48) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت قسمیں کھاتے تھے تم کہ نہیں پہنچائے گا ان کو اللہ رحمت،(ان سے تو کہہ دیا گیا) داخل ہوجاؤ تم جنت میں نہیں ہے کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے(49)
[46] یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ’’مقام اعراف‘‘ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں ۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جا سکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جا سکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں ۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے ﴿اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سلامتی ہے تم پر‘‘ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔
[47]﴿وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ﴾ ’’اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی‘‘ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا‘‘ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ و سلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومی طور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔
[48] عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔‘‘اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ۔۔۔ کہیں گے:﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ ﴾ ’’آج تمھاری جماعت تمھارے کچھ کام نہ آئی۔‘‘ یہاں تمھارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لیے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمھارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمھارے تکبر نے تمھیں کیا فائدہ دیا؟
[49] پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اب یہ وہی ہیں ‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ﴾’’جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خود پسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ ﴿ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ مستقبل میں تمھیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾ اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون اور مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا مَرُّوۡا بِهِمۡ يَتَغَامَزُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَۙ۰۰ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَؕ۰۰ فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَۙ۰۰ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ۰۰﴾(المطففین:83؍29-35) ’’وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں ۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہو جائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہو جائیں ۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔