اور پکار کر کہیں گے دوزخی،جنتیوں کو، یہ کہ ڈالو تم ہم پر کچھ پانی سے یا(پھینکو) کچھ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ نے،کہیں گے جنتی! بے شک اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں اوپر کافروں کے(50) وہ لوگ جنھوں نے بنالیا اپنے دین کو تماشہ اور کھیل اور دھوکے میں ڈالے رکھا ان کو زندگانئ دنیا نے، پس آج ہم بھلادیں گے انھیں جیسے بھلا دیا تھا انھوں نے ملاقات کو اپنے اس دن کی اور جو تھے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے(51) اور البتہ لائے ہم ان کے پاس ایسی کتاب کہ مفصل بیان کیا ہم نے اس کو ساتھ علم کے،وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(52) نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس کے انجام(قیامت) کا جس دن آئے گا انجام اس کا،تو کہیں گے وہ لوگ جو بھولے ہوئے تھے اس کو اس سے پہلے،تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے، پس کیا ہمارے لیے کوئی سفارشی ہیں کہ وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا لوٹادیے جائیں ہم،تو عمل کریں گے علاوہ ان کے جو تھے ہم(پہلے) عمل کرتے،تحقیق خسارے میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو اورگم ہوگیا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(53)
[52-50] جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بے انتہا بھوک اور انتہائی تکلیف دہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لیے بلائیں گے اور کہیں گے ﴿ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمھیں عطا کیا ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا ﴾ ’’اللہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے‘‘ یعنی جنت کا پانی اور کھانا ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کافروں پر۔‘‘ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انھوں نے اس دین کو .... جس پر قائم رہنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انھیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، کھیل تماشہ بنا لیا ﴿ لَهۡوًا وَّلَعِبًا ﴾’’تماشا اور کھیل‘‘ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انھوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کر لیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔﴿ وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب و زینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے ﴿ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰىهُمۡ ﴾ ’’پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے‘‘ یعنی انھیں عذاب میں چھوڑے دے رہے ہیں ﴿ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَؔ يَوۡمِهِمۡ هٰؔذَا﴾ ’’جیسا انھوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں ﴿ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔‘‘حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و جحود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ﴿ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ﴾ ’’ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔‘‘ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے ﴿ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’خبرداری سے‘‘ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لیے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ ﴿ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لیے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد و ضلالت کے درمیان فرق واضح اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہو جاتی ہے۔
[53] وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انھوں نے اس کے اوامر و منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لیے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ ﴾ ’’کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے‘‘ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ جناب یوسفu نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 12؍100) ’’یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا‘‘ فرمایا: ﴿يَوۡمَ يَاۡتِيۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے‘‘ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے سفارش تلاش کرتے ہوئے اور اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے ﴿ قَدۡ جَآءَؔتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ١ۚ فَهَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَؔ فَيَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ ﴾ ’’بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں ‘‘ ﴿ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے‘‘ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے ﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾(المدثر: 74؍48) ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔‘‘ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا تاکہ وہ نیک عمل کر سکیں ، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28)’’اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹے ہیں ‘‘۔﴿ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بے شک نقصان میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو‘‘ جبکہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لیے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں ۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے‘‘ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب میں ہی نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیا و مرسلین علیہ السلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔