Tafsir As-Saadi
9:46 - 9:48

اور اگر ارادہ کرتے وہ نکلنے کا تو ضرور تیار کرتے اس کے لیے کچھ سامان لیکن نہیں پسند کیا اللہ نے ان کے اٹھنے (جانے) کو، پس ان کو سست کردیا (روک دیا) اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم ساتھ بیٹھنے والوں کے(46) اگر وہ نکلتے تم میں (شامل ہوکر) تو نہ زیادہ کرتے تمھارے لیے مگر خرابی ہی ،اور البتہ دوڑاتے وہ (اپنے گھوڑے) تمھارے درمیان، تلاش کرتے ہوئے تمھارے اندر فتنہ اور تم میں(کچھ) جاسوس ہیں ان کے لیے اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(47) البتہ تحقیق تلاش کیا تھا انھوں نے فتنہ اس سے پہلے بھی اور الٹ پلٹ کرتے رہے آپ کے لیے معاملات کو، یہاں تک کہ آگیا حق اور غالب ہوگیا حکم اللہ کا جبکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے(48)

[46] اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرائن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لیے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں ۔ کیونکہ عذر جہاد کے لیے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندۂ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لیے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جہاد کے لیے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ یہ منافقین ﴿ لَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً ﴾ ’’اگر نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے ضرور کچھ سامان تیار کرتے‘‘ یعنی وہ تیاری کرتے اور ایسے تمام اسباب عمل میں لاتے جو ان کے بس میں تھے۔ چونکہ انھوں نے اس کے لیے تیاری نہیں کی اس لیے معلوم ہوا کہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ ہی نہ تھا ﴿ وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے پسند نہیں کیا ان کا اٹھنا‘‘ یعنی ان کا جہاد کے لیے تمھارے ساتھ نکلنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا ﴿فَثَبَّطَهُمۡ﴾ ’’سو روک دیا ان کو‘‘ اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تھا اور اس کی ان کو ترغیب بھی دی اور وہ ایسا کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی بنا پر ان کی اعانت نہ فرمائی، اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ ﴿ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا گیا، بیٹھے رہو، بیٹھنے والوں کے ساتھ‘‘ یعنی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
[47] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ خَرَجُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا زَادُوۡؔكُمۡ اِلَّا خَبَالًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ نکلتے تو تمھارے نقصان ہی میں اضافہ کرتے‘‘ (خَبالًا) یعنی ’’نقصان‘‘ ﴿ وَّ لَاۡؔاَوۡضَعُوۡا خِلٰلَكُمۡ ﴾ ’’اور گھوڑے دوڑاتے تمھارے درمیان‘‘ یعنی تمھارے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے اور تمھاری متحد جماعت میں تفرقہ پیدا کرتے۔ ﴿ يَبۡغُوۡنَكُمُ الۡفِتۡنَةَ ﴾ ’’بگاڑ کرانے کی تلاش میں ‘‘ یعنی وہ تمھارے درمیان فتنہ برپا کرنے اور عداوت پیدا کرنے کے بہت حریص ہیں ۔ ﴿ وَفِيۡكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے اندر‘‘ ضعیف العقل لوگ موجود ہیں ۔ جو ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لَهُمۡ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں ان کے لیے‘‘ یعنی ان کے دھوکے میں آکر ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ پس جب وہ تمھیں تنہا چھوڑ دینے، تمھارے درمیان فتنہ ڈالنے اور تمھیں تمھارے دشمنوں کے خلاف لڑنے سے باز رکھنے کے بہت حریص ہیں اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں ۔ تو کیا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اگر وہ جہاد کے لیے اہل ایمان کے ساتھ نکلتے تو انھیں کتنا زیادہ نقصان پہنچتا؟پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کتنی کامل ہے کہ اس نے ان کو اس سے باز رکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر رحم اور لطف و کرم کرتے ہوئے ان کے ساتھ جہاد کے لیے نکلنے سے ان کو روک دیا تاکہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢؔ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ پس وہ اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ کیسے ان کی فتنہ پردازی سے بچیں ، نیز وہ ان مفاسد کو واضح کرتا ہے جو ان کے ساتھ میل جول سے پیدا ہوتے ہیں ۔
[48] نیز اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ پہلے بھی ان کی شر انگیزی ظاہر ہو چکی ہے۔ ﴿ لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَةَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’وہ اس سے پہلے بھی بگاڑ تلاش کرتے رہے ہیں ‘‘ یعنی جب تم لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت بھی انھوں نے فتنہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ﴿ وَقَلَّبُوۡا لَكَ الۡاُمُوۡرَ ﴾ ’’اور الٹتے رہے ہیں آپ کے کام‘‘ یعنی انھوں نے افکار کو الٹ پلٹ کر ڈالا، تمھاری دعوت کو ناکام کرنے اور تمھیں تنہا کرنے کے لیے حیلہ سازیاں کیں اور اس میں انھوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ الۡحَقُّ وَظَهَرَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ حق آ گیا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ ناخوش تھے‘‘ پس ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور ان کا باطل مضمحل ہوگیا۔ سو اس قسم کے لوگ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرے اور اہل ایمان ان کے پیچھے رہ جانے کی پروا نہ کریں ۔