البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔