Tafsir As-Saadi
7:65 - 7:72

اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)

[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔