Tafsir As-Saadi
7:73 - 7:79

اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)

[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔