Tafsir As-Saadi
7:85 - 7:93

اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)

[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔