کیا نہیں واضح ہوئی، ان لوگوں کے لیے جو وارث بنے زمین کے بعد (ہلاک ہونے) اس کے رہنے والوں کے، یہ بات کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں ان کو بوجہ ان کے گناہوں کےاور مہر لگا دیں اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ(کچھ) نہ سنیں(100)یہ بستیاں ہیں، بیان کرتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں ان کی اور البتہ تحقیق آئے ان کے پاس رسول ان کے، ساتھ واضح دلیلوں کے، پس نہ ہوئے وہ (اس لائق) کہ ایمان لاتے، اس پر جسے جھٹلا چکے تھے وہ پہلے، اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ دلوں پر کفر کرنے والوں کے(101) اورنہیں پایا ہم نے ان کے اکثر کے لیے کوئی عہد(کا پاس) اور بلاشبہ پایا ہم نے ان کے اکثر کو نافرمان ہی(102)
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ۔‘‘ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، زمین میں وارث بنی ہیں ؟ پھر انھوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کر دیا۔ کیا انھیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ ﴿وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں ، پس وہ نہ سنیں ‘‘، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں ، انھیں نصیحت کرے مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے مگر وہ راہ نمائی حاصل نہ کریں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہو جاتے ہیں ... ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہو سکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انھیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔
[101]﴿تِلۡكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’وہ بستیاں ‘‘ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآىِٕهَا﴾ ’’ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں ‘‘ جس سے عبرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لیے نصیحت ہے ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾’’اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کر دینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو تقویت بخشی۔ مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا، نہ ان کے کسی کام آئی۔﴿ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے‘‘ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کر دینے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔‘‘﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔
[102]﴿وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ﴾ ’’ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اکثر ان میں پائے نافرمان‘‘ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بے راہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لیے پہلے ہی سعادت لکھ دی گئی تھی۔ اور رہے اکثر لوگ تو انھوں نے ہدایت سے رو گردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔