اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔