Tafsir As-Saadi
7:189 - 7:193

وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)

[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔