بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘