اس دن ہو گا آسمان جیسے پگھلا ہوا تانبا (8) اور ہوں گے پہاڑ جیسے دُھنکی ہوئی رنگین اون(9) اور نہیں پوچھے گا کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو (10) حالانکہ وہ دکھلا ئے جائیں گے وہ ان کو پسند کرے گا مجرم کاش کہ فدیے میں دے عذاب سے (بچنے کے لیے) اس دن کے، اپنا بیٹا (11) اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی (12) اور اپنا خاندان وہ جو جگہ (پناہ) دیتا ہے اسے (13) اور وہ جو زمین میں ہیں سب، پھر وہ (فدیہ) نجات دلا دے اس کو (14) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ آگ ہے بھڑکتی ہوئی (15) ادھیڑ ڈالنے والی کھالوں کو (16) پکارے گی وہ(ہر) اس شخص کو جس نے پیٹھ پھیری(حق سے)اور منہ موڑا (17) اور جمع کیا (مال) اور سینت کر رکھا (18)
[9,8]﴿ يَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔‘‘ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے ۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِ﴾ ’’اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔‘‘ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
[14-10] جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:﴿ وَلَا يَسۡـَٔلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًاۚۖ۰۰يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ﴾(حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِ ۰۰ وَ صَاحِبَتِهٖ﴾ ’’کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔‘‘ ﴿ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ﴾ ’’اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان‘‘ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِ﴾ ’’جس میں وہ رہتا تھا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے ، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
[18-15]﴿ كَلَّا﴾ یعنی اب ان کے لیے کوئی حیلہ ہے نہ مدد کا موقع، ان پر تیرے رب کا فیصلہ واجب ہو چکا، رشتہ داروں اور دوستوں کا فائدہ بھی جا چکا ﴿ اِنَّهَا لَظٰىۙ۰۰ نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى﴾ ’’وہ آگ ہوگی کھالوں کو ادھیڑ دینے والی‘‘ یعنی ظاہر و باطنی اعضاء کو اپنے سخت عذاب کی وجہ سے اکھاڑ دے گی۔ ﴿ تَدۡعُوۡا﴾ اپنی طرف بلائے گی ﴿ مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ۰۰۱۷ وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى﴾ اس کو جس نے اتباع حق سے پیٹھ پھیری اور اس سے منہ موڑا، اور حق سے کوئی غرض نہ رکھی، مال پہ مال جمع کرتا رہا اور اسے سینت سینت کر رکھتا رہا، اس میں سے اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ نہ کیا جسے خرچ کر کے اپنے آپ سے جہنم کو دور کرتا۔ پس جہنم ان لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان پر شعلہ زن ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔