میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔
[2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کوتاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کر دیا۔
[4,3] پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗ﴾ ’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکھٹی نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسین:36؍78) ’’کہنے لگا: جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو ان کو کون زندگی عطا کرے گا؟‘‘ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کا رد کیا:﴿بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ﴾ ’’کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔‘‘ مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پور وجود میں آ گئے تو جسد کی تخلیق ہو گئی۔
[6,5] اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہاں (فُجُورٌ) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: