Tafsir As-Saadi
75:26 - 75:40

ہرگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا (اسے)(38) پھر بنایا اس سے جوڑا نراور مادہ(39) کیا نہیں ہے وہ (اللہ) قادر اس بات پر کہ وہ زندہ کر دے مردوں کو؟ (40)

[30-26] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَقِيۡلَ مَنۡ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔
[33-31] مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جما رہتا ہے۔﴿ فَلَا صَدَّقَ﴾ ’’پس نہ اس نے تصدیق کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا ﴿ وَلَا صَلّٰى۰۰ وَلٰكِنۡ كَذَّبَ﴾ اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کی ﴿ وَتَوَلّٰى﴾ اور امر و نہی سے روگردانی کی، یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بے خوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰى﴾ ’’ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا‘‘ یعنی اس کو کوئی پروا نہیں ہوئی۔
[35,34] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی، فرمایا:﴿ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ۰۰ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰى﴾ ’’افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔‘‘ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔
[40-36] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًى﴾ یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ ﴿ اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ ثُمَّ كَانَ﴾ ’’کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے، پھر ہوگیا؟‘‘ یعنی منی کے بعد﴿ عَلَقَةً ﴾ خون کا لوتھڑا ﴿ فَخَلَقَ ﴾ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار پیدا کیا اور اسے درست کیا ، یعنی اس کو مہارت سے محکم کر کے بنایا ﴿ فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰى۰۰ اَلَيۡسَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہیں ہے وہ۔‘‘ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا ﴿ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيَِۧ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے؟‘‘ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔