Tafsir As-Saadi
5:100 - 5:100

کہہ دیجیے! نہیں برابر ہو سکتے ناپاک اور پاک اگرچہ تعجب میں ڈالے آپ کو کثرت ناپاک کی، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل والو! تاکہ تم فلاح پاؤ(100)

[100]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَّا يَسۡتَوِي الۡخَبِيۡثُ وَالطَّيِّبُ ﴾ ’’ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں ۔‘‘ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہو سکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں ۔ ﴿ وَلَوۡ اَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ الۡخَبِيۡثِ﴾ ’’اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے‘‘ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’پس اے عقل مندو! اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے عقل مندوں ، یعنی پوری عقل اور کامل رائے کے حامل لوگوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ انھی لوگوں کی طرف ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پروا کی جاتی ہے اور انھی میں خیر کی امید ہوتی ہے اور ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی میں اس کی موافقت کا نام ہے۔ پس جس نے تقویٰ اختیار کیا، اس نے پوری فلاح پا لی۔ جس نے تقویٰ کو ترک کر دیا، اس کے نصیب میں خسارہ آیا اور نفع سے محروم رہ گیا۔