بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔
[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔
[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔