Tafsir As-Saadi
79:1 - 79:14

قسم ہے سختی سے روح نکالنے والوں کی ڈوب کر(1) اور آسانی سے روح نکالنے والوں کی نرمی سے(2) اور تیرنے والوں کی تیزی سے تیر نا (3) پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر(4) پھر ان کی جو تدبیر کرنے والے ہیں ہر امر کی(5) جس دن کانپے گی کانپنے والی(6) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آ نے والی(7) کئی دل اس دن دھڑکتے ہوں گے(8) ان کی آنکھیں جھکی (نیچی) ہوں گی(9) وہ کہتے ہیں، کیا یقیناً ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت میں؟ (10) کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں بوسیدہ؟ (11) وہ کہتے ہیں، یہ اس وقت واپسی ہو گی خسارے والی (12) پس صرف وہ تو ایک (خوف ناک) ڈانٹ ہو گی (13) تو یکایک وہ (لوگ) ہوں گے کھلے میدان میں (14)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿وَ الـنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا﴾ ’’ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا﴾’’اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔‘‘اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ﴾ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ ﴾ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبۡقًا﴾ ’’سبقت لے جانا۔‘‘ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالۡمُدَبِّرٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔
[9-6]﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ﴾ ’’جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔‘‘اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُلُوۡبٌ يَّوۡمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔
[14-10] منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ۠ فِي الۡحَافِرَةِ﴾ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا ، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے ، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً﴾ یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ’’کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾ ’’وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔‘‘یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ﴾ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔