جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40)
[39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔
[40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔