تحقیق آ چکی ہے آپ کے پاس بات موسیٰ کی (15) جب پکارا تھا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طُوٰی میں (16)(اور کہا) جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ اس نے سرکشی کی ہے (17) پس کہیے، کیا تجھے (رغبت) ہے اس کی کہ تو پاک ہو؟ (18) اور میں رہنمائی کروں تیری تیرے رب کی طرف کہ تو ڈرے؟(19) پھر موسیٰ نے دکھائی فرعون کو نشانی بڑی (20) تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی (21) پھر وہ پلٹا (فساد کی) کوشش کرتے ہوئے (22) پھر اس نے (سب کو) جمع کیا اور پکارا (23) پس کہا، میں ہوں تمھارا رب سب سے بڑا (24) تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے عذاب میں آخرت اور دنیا کے (25)بلاشبہ اس میں ، البتہ عبرت ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے (26)
[25-15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى﴾ یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہے ، یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ uکا قصہ پہنچا ہے؟ ﴿ اِذۡ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ ’’جب ان کے رب نے انھیں پاک میدان طوی میں پکارا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ uسے کلام کیا، انھیں رسالت سے سرفراز فرمایا، انھیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انھیں اپنے لیے چن لیا۔ ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہورہا ہے۔‘‘ اسے نہایت نرم بات اور پرلطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ ﴿ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى ﴾(طہ: 44/20)’’نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ ﴿ فَقُلۡ﴾ اس سے کہہ دیجیے: ﴿ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے، جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کر کے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے؟﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی میں اس کی طرف تیری راہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ﴿ فَتَخۡشٰى﴾ پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہو جائے، تو اللہ سے ڈر جائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰu نے فرعون کو دعوت دی تھی فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ فَاَرٰىهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔‘‘ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍107۔108)’’موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہو گیا۔‘‘﴿ فَكَذَّبَ ﴾ پس اس نے حق کو جھٹلایا ﴿ وَعَصٰؔى﴾ اور حکم کی نافرمانی کی ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰى ﴾’’ پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔‘‘ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرتا ہے ﴿ فَحَشَرَ ﴾ پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا ﴿ فَنَادٰى ٞۖ۰۰ فَقَالَ ﴾ اور پکارا اور ان سے کہا ﴿ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ پس جب اس نے ان کو ہلکا پایا تو انھوں نے اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا اور اس کے باطل کا اقرار کر لیا۔﴿فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ﴾ ’’پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑلیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔
[26]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ ’’بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔