بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم گئے، اترتے ہیں ان پر فرشتے(یہ کہتے ہوئے)کہ نہ خوف کرو تم اور نہ غم کھاؤ اورخوش ہو جاؤ تم ساتھ جنت کے، وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (30) ہم دوست ہیں تمھارے زندگانی ٔدنیا میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو چاہیں گے تمھارے جی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو تم مانگو گے (31) بطور مہمانی کے بڑے بخشنے والے نہایت مہربان کی طرف سے (32)
[30] اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انھیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ، پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے۔ ان کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ ﴿تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں‘‘ یعنی ان کا نزول بتکرار ہوتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاضر ہو کر خوشخبری دیتے ہیں: ﴿اَلَّا تَخَافُوۡا ﴾ ’’نہ ڈرو‘‘ یعنی اس معاملے پر خوف نہ کھاؤ جو مستقبل میں تمھیں پیش آنے والا ہے۔ ﴿وَ لَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ ’’اور نہ غمگین رہو‘‘ یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس پر غم نہ کھاؤ ۔ گویا ماضی اور مستقبل میں ان سے کسی بھی ناگوار امر کی نفی کر دی گئی ہے۔ ﴿وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ جنت تمھارے لیے واجب ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔
[31] وہ ثابت قدمی کے لیے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے: ﴿نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔‘‘ وہ دنیا کے اندر انھیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقاماتِ خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان کے رب کی طرف سے عطا کردہ اکرام و تکریم پر انھیں مبارک باد دیتے اور ہر دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے ان سے کہیں گے:﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد: 13؍24) ’’تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمھارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر!‘‘ نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے:﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿ مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ ﴾ ’’جو چیز تمھارے نفس چاہیں گے‘‘ وہ تیار اور مہیا ہو گی۔ ﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے‘‘ یعنی لذات و شہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمھیں حاصل ہو گی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔
[32]﴿نُزُلًا ﴾ یہ بے پایاں ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت، مہمانی اور ضیافت ہے ﴿مِّنۡ غَفُوۡرٍ ﴾ ’’بخش دینے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھارے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’اور بہت ہی رحم کرنے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھیں نیکیوں کی توفیق دی ، پھر ان نیکیوں کو قبول فرمایا۔ اس نے اپنی مغفرت سے برائی کو تم سے دور کیا اور اپنی رحمت سے تمھارا مطلوب تمھیں عطا کیا۔