Tafsir As-Saadi
8:9 - 8:14

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔