اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)