Tafsir As-Saadi
8:29 - 8:29

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر ڈرو تم اللہ سے تو وہ بنادے گا تمھارے لیے کسوٹی (دلیل حق) اور مٹا دے گا تم سے تمھاری برائیاں اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(29)

[29] بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائی کا دارومدار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا و مافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’’فرقان‘‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (۲،۳)برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں ۔ (السئیات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ سے اور گناہوں (الذنوب) کو بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔ (۴) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، اس کے لیے بہت بڑا اجر اور بے پایاں ثواب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘