Tafsir As-Saadi
8:41 - 8:42

اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)

[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ ﴾ ’’اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن‘‘ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ﴾ ’’جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں‘‘ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی... یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسولﷺ پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جو کچھ لائے ہیں ، وہ حق ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔
[42]﴿اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔‘‘ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى﴾ ’’اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكۡبُ ﴾ ’’اور قافلہ‘‘ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے نیچے کی طرف تھا‘‘ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔‘‘ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِي الۡمِيۡعٰدِ﴾ ’’تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ‘‘ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ ’’اور لیکن‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا ہے‘‘ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں ، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔