بلاشبہ وہ لوگ جو کج روی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں نہیں وہ مخفی رہتے ہم پر، کیا پس جو شخص ڈالا جائے گا آگ میں، وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے گا امن سے دن قیامت کے؟ عمل کرو تم جو چاہو، بے شک وہ (اللہ) ساتھ اس کےجوتم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے (40) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ذکر (قرآن) کے جب آیا وہ ان کے پاس(تو وہ ہلاک ہوں گے) اور بے شک وہ البتہ ایک کتاب ہے بہت زبردست (41) نہیں آ سکتا اس کےپاس باطل اس کےآگے سے اور نہ اس کےپیچھے سے، وہ نازل کر دہ ہے بڑی حکمت والی قابل تعریف ذات کی طرف سے (42)
[40] اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق و صواب سے ہٹا دینا۔ یا تو ان آیات الٰہی کا انکار کر دینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا، یا ان آیات الٰہی کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر، ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہےاور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اَفَمَنۡ يُّلۡقٰى فِي النَّارِ ﴾ ’’کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا ﴿خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ يَّاۡتِيۡۤ اٰمِنًا يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ و مامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے؟ اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔جب باطل سے حق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کی گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہو گیا تو فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ﴾ ’’تم جو چاہو کرلو۔‘‘ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کر لو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے، اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کر لو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدبختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے احوال و اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف: 18؍29) ’’کہہ دیجیے: حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔‘‘
[41، 42] پھرفرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالذِّكۡرِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا‘‘ یعنی جو لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، جو بندوں کو ان کے دینی، دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاد دہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ ﴿لَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’جبکہ وہ ان کے پاس آیا۔‘‘ یعنی افضل اور کامل ترین ہستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ ﴾ ’’بے شک وہ ایک کتاب ہے‘‘ یہ اوصافِ کمال کی جامع کتاب ہے۔ ﴿عَزِيۡزٌ﴾ ’’زبردست‘‘ یعنی ہر قسم کے ارادۂ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔اسی لیے فرمایا: ﴿لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ﴾ ’’اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس میں سے کوئی شیطان، چوری یا دخل اندازی یا کمی بیشی کے ارادے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تنزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ و معانی ہر تحریف سے مامون و مصئون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے اور فرمایا:﴿اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ﴾(الحجر: 15؍9) ’’بے شک ہم نے ’’ذکر‘‘ (یعنی قرآن)کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘﴿تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ ﴾ یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے۔ جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے۔ ﴿حَمِيۡدٍ ﴾ ’’قابل تعریف ہے‘‘ جو اپنی صفات کمال، نعوت جلال اور اپنے عدل و احسان پر قابل تعریف ہے، بنابریں اس کی کتاب تمام ترحکمت، تحصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔