Tafsir As-Saadi
8:43 - 8:44

جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)

[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔