اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔