Tafsir As-Saadi
8:65 - 8:66

اے نبی! ابھاریے مومنوں کو اوپر لڑائی کے، اگر ہوں گے تم میں سے بیس صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپر۔ اوراگر ہوں گے تم میں سے ایک سو تو غالب آئیں گے وہ ہزار پر، ان میں سے جنھوں نے کفر کیا، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے(65) اب تخفیف کردی اللہ نے تم سے اور جان لیا اس نے کہ تمھارے اندر کمزوری ہے۔ پس اگر ہوں گے تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپراوراگر ہوں گے تم میں سے ایک ہزار تو غالب آئیں گے وہ دو ہزار پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(66)

[65] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلَى الۡقِتَالِ﴾ ’’اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء: 4؍104) ’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘﴿ اِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے‘‘ ﴿ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ يَغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ١ۚ وَاِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ مِّؔائَةٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ یعنی کفار ﴿ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘ یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت ، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں ۔
[66] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اس حکم میں تخفیف کر دی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا﴾ ’’اب بوجھ ہلکا کر دیا اللہ نے تم پر سے اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔‘‘اسی لیے اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس حکم میں تخفیف کر دی جائے، چنانچہ اب اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر غالب ہوں گے۔ ﴿وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ان آیات کریمہ کا اسلوب اگرچہ اہل ایمان کے بارے میں خبر کا ہے کہ جب وہ اس معینہ تعداد تک پہنچتے ہیں تو وہ مقابلے میں کفار کی مذکورہ تعداد پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو شجاعت ایمانی سے نوازا ہے۔ مگر اس کا معنی اور حقیقی منشا امر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو پہلے حکم دیا کہ ایک مومن کو (میدان جنگ میں )دس کافروں کے مقابلے سے فرار نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح دس مومنوں کو سو کافروں اور سو مومنوں کو ہزار کافروں کے مقابلے سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ پھر اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے سے دوگنا کفار کے مقابلے سے فرار نہ ہوں ۔ اگر کفار کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو تو اس صورت میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا جائز ہے۔ مگر دو امور اس کی تردید کرتے ہیں ۔(۱)یہ حکم خبر کے اسلوب میں ہے اور خبر کا اصول یہ ہے کہ یہ اپنے باب کے مطابق استعمال ہوتی ہے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر اور امر واقع کی خبر دینا ہے۔(۲) اس عدد مذکور کو صبر کی قید کے ساتھ مقید کیا گیا ہے یعنی انھوں نے صبر کو مشق کے ذریعے سے اپنی عادت بنا لیا ہو۔اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ صابر نہ ہوں تو ان کے لیے فرار جائز ہے خواہ کافر ان سے کم ہی کیوں نہ ہوں ۔ یہ اس صورت میں ہے جب نقصان پہنچنے کا اندیشہ غالب ہو، جیسا کہ حکمت الہیہ کا تقاضا ہے۔پہلے نکتے کا جواب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ ﴾ سے لے کر ﴿ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ تک... اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر لازم اور حتمی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس تعداد میں تخفیف فرما دی۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت کریمہ کا پیرایہ اگرچہ خبر کا ہے مگر اس سے مراد امر ہے۔اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکم کو خبر کے پیرائے میں بیان کرنے میں ایک انوکھا نکتہ پنہاں ہے، جو امر کے اسلوب میں ہرگز نہ پایا جاتا.... اور وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے دلوں کے لیے تقویت اور بشارت ہے کہ وہ عنقریب کافروں پر غالب آئیں گے۔دوسرے نکتے کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو صبر کی صفت سے مقید کرنا درحقیقت ان کو صبر کی ترغیب دینا ہے یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم وہ تمام اسباب اختیار کرو جو صبر کے موجب ہیں ۔جب وہ صبر کا التزام کرتے ہیں تو تمام اسباب ایمانی اور اسباب مادی اس امر کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے... یعنی اہل ایمان کی قلیل تعداد کو فتح و نصرت سے نوازنا۔