Tafsir As-Saadi
8:61 - 8:64

او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)

[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے خرچ کر دیتے۔ ﴿ مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں ، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کر دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا١ۚ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا﴾(آل عمران: 3؍103) ’’اور اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔‘‘
[64] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لیے (بھی) کافی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں ، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انھوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔