Tafsir As-Saadi
80:11 - 80:32

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32)

[16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔
[23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔
[32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔