ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔