Tafsir As-Saadi
89:6 - 89:14

کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)

[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔