تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔
[7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
[16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔