اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست، اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پراور جو دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو یہی لوگ ہیں ظالم(23) کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا قبیلہ کنبہ اور وہ مال جو کمائے تم نے اور وہ تجارت کہ ڈرتے ہو تم اس کے مندے پڑ جانے سے اور وہ گھر کہ پسند کرتے ہو تم انھیں، زیادہ محبوب تمھیں، اللہ سے اوراس کے رسول سے اور جہاد کرنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو تم، یہاں تک کہ لائے اللہ اپنا حکم اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے ولے ہیں(24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے مومنو!‘‘ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو، جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست‘‘ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمھارے قریب ہیں ۔ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولیٰ ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ﴿اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡكُفؔۡرَ عَلَى الۡاِيۡمَانِ ﴾ ’’اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں ‘‘ یعنی اگر وہ برضا و رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔ ﴿ وَ مَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے، پس وہی لوگ ہیں ظالم‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا، چونکہ ولایت اور دوستی کی اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفار کو دوست بنانا، کفار کی اطاعت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔
[24] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی محبت کو اس محبت کے تابع کیا ہے۔فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ‘‘ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ﴿ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے بیٹے اور بھائی‘‘ یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔ ﴿ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری بیویاں اور دیگر عمومی رشتہ دار‘‘ ﴿ وَاَمۡوَالُ اِ۟ اقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ مال جو تم کماتے ہو‘‘ جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انھیں اس مال کی نسبت جو انھیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے، زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ﴿ وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا ﴾ ’’اور وہ سوداگری جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں ، مثلاً: ہر قسم کا سامان تجارت، مال کی قیمتیں ، برتن، اسلحہ، اشیائے استعمال، غلہ جات، کھیتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ ﴿ وَمَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ ﴾ ’’اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو‘‘ ان کی خوبصورتی، سجاوٹ اور ان کا تمھاری خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے۔ ﴿ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَجِهَادٍ فِيۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’اگر یہ تمام چیزیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘ تو تم فاسق و فاجر اور ظالم ہو۔ ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا ﴾ ’’تو انتظار کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ﴿ حَتّٰى يَاۡتِيَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے‘‘ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرۂ اطاعت سے باہر نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت فرض ہے اور دیگر تمام اشیا کی محبت پر مقدم ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دو امور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلو نہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہو مگر اس کو اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہو جاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کمی واقع ہو جاتی ہو... اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انھیں اپنی نصرت سے نوازا حتیٰ کہ ’’حنین‘‘ کی جنگ میں جبکہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں ، چنانچہ آپ صحابہ کرامy اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد چار ہزار تھی۔ کچھ مسلمانوں نے اس کثرت تعداد پر اتراتے ہوئے کہا ’’آج ہم پر کوئی غالب نہیں آسکے گا۔‘‘جب بنو ہوازن اور مسلمانوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو انھوں نے مسلمانوں پر یک بارگی حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور شکست کھا کر بھاگ اٹھے اور انھوں نے پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ سو کے لگ بھگ آدمی رہ گئے تھے جو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ڈٹے مشرکین سے لڑ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ اپنے خچر کو ایڑ لگا کر مشرکین کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ ( اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب) ’’میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘جب آپ نے مسلمانوں کی یہ ہزیمت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو، جو کہ بلند آواز شخص تھے، حکم دیا کہ وہ انصار اور باقی مسلمانوں کو آواز دیں ، چنانچہ انھوں نے پکار کر کہا :’’اے اصحاب بیعت رضوان! اے اصحاب سورہ بقرہ‘‘!جب بھاگنے والوں نے حضرت عباسt کی آواز سنی تو وہ یک بارگی واپس پلٹے اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ ان کے اموال اور عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں ۔