Tafsir As-Saadi
9:28 - 9:28

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ مشرکین تو ناپاک ہیں، پس نہ قریب جائیں وہ مسجد حرام کے، بعد اپنے اس سال کےاوراگر تم خوف کرتے ہو مفلسی سے تو عنقریب غنی کردے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر اس نے چاہا، یقینا اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے(28)

[28]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! بے شک مشرکین‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی ﴿ نَجَسٌ ﴾ ’’ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے عقائد و اعمال میں ناپاک ہیں ۔اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لیے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس لیے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ پاک گھر سے مشرکین کو پاک رکھو۔ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾’’پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ‘‘ اور یہ ۹ ھ کا سال تھا جب حضرت ابوبکر صدیقt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالبt کو روانہ فرمایا کہ حج کے روز ’’براء ت‘‘ کا اعلان کر دیں ، چنانچہ انھوں نے اعلان کیا کہ سال رواں کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آئے گا اور نہ کوئی شخص عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔یہاں نجاست سے مراد بدن کی نجاست نہیں ۔ کیونکہ کافر کا بدن بھی دوسرے لوگوں کے بدن کی طرح پاک ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابیہ عورت کے ساتھ مباشرت جائز قرار دی ہے مگر اس کا پسینہ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اسے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار کے ساتھ بدنی اختلاط رکھتے چلے آئے ہیں مگر ان سے یہ بات منقول نہیں کہ انھوں نے کفار کو اس طرح ناپاک سمجھا ہو جس طرح وہ گندگی کو ناپاک سمجھتے ہیں ۔ درحقیقت اس سے مراد جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے..... معنوی نجاست، یعنی شرک ہے۔﴿ وَاِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةً ﴾ ’’(اے مسلمانو!) اگر تمھیں محتاجی کا خوف ہو۔‘‘ یعنی مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے روک دینے کی وجہ سے تمھارے اور ان کے درمیان دنیاوی امور میں قطع تعلق کی بنا پر فقر و احتیاج کے لاحق ہونے کا ڈر ہو۔ ﴿ فَسَوۡفَ يُغۡنِيۡكُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖۤ ﴾ ’’تو اللہ اپنے فضل سے تمھیں غنی کر دے گا‘‘ رزق کا ایک ہی دروازہ اور ایک ہی جگہ تو نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اگر رزق کا ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے تو بے شمار دوسرے دروازے کھل جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بے انتہا فضل و کرم اور بہت بڑے جود و سخا کا مالک ہے۔ خاص طور پر اس شخص کے لیے جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی چیز کو ترک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا کیونکہ اس نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو غنی کر دیا۔ انھیں اس قدر کشادہ رزق عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے مال داروں اور بادشاہوں میں شمار ہونے لگے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنۡ شَآءَ﴾ ’’اگر اس نے چاہا‘‘ اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا اس کی مشیت کے ساتھ معلق ہے کیونکہ دنیا کے اندر غنا کا حاصل ہونا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا، ہر ایک کو دیتا ہے، اپنے محبوب بندے کو بھی اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا مگر وہ ایمان اور دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ اس کا علم بڑا وسیع ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون غنا عطا کیے جانے کے لائق ہے اور کون ہے جو اس کے لائق نہیں اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔آیت کریمہ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ دلالت کرتی ہے کہ مشرکین مکہ بیت اللہ کی وجہ سے ریاست اور بادشاہی کے مالک تھے پھر فتح مکہ کے بعد حکومت اور اقتدار رسول اللہﷺ اور مومنین کے پاس آگیا اور مشرکین مکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جب نبی اکرمﷺ نے وفات پائی تو (وفات کے وقت) آپ نے حکم دیا کہ مشرکین کو سرزمین حجاز سے نکال دیا جائے۔ حجاز میں بیک وقت دو دین نہیں رہ سکتے.... اور یہ اس وجہ سے تاکہ ہر کافر کو مسجد حرام سے دور رکھا جائے۔ پس ہر کافر اللہ تعالیٰ کے حکم ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ میں داخل ہے۔