Tafsir As-Saadi
9:40 - 9:40

اگہ نہ مدد کرو گے تم اس کی تو تحقیق مدد کی اس (پیغمبر) کی اللہ نے، جبکہ نکال دیا تھا اس کو ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، (وہ) دوسرا تھا دومیں سے، جب وہ دونوں تھے غار میں، جبکہ وہ کہہ رہا تھا اپنے ساتھی سے ، غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اس پر اورمدد کی اس کی ایسے لشکروں سے کہ نہیں دیکھا تم نے ان کواور کردی اس نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نیچی۔ اور بات اللہ کی وہی ہے بالااور اللہ بڑا زبردست بہت حکمت والا ہے(40)

[40] اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی مدد نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ تم سے بے نیاز ہے تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس نے انتہائی بدترین حالات میں بھی آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب اس کو کافروں نے نکال دیا۔‘‘ جب کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا، جب انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی اور وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔ آخر انھوں نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ ﴿ ثَانِيَ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’وہ دو میں سے دوسرا تھا‘‘ یعنی نبی کریمﷺ اور ابوبکر صدیقt ﴿ اِذۡ هُمَا فِي الۡغَارِ ﴾’’جب وہ دونوں غار میں تھے‘‘ یعنی جب رسول اللہﷺ اور ابوبکر صدیقt مکہ مکرمہ سے نکل کر مکہ سے نیچے کی طرف واقع غار ثور میں پناہ گزین ہوئے۔ دونوں اس وقت تک غار میں ٹھہرے رہے جب تک کہ ان کی تلاش کا معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑ گیا۔ دونوں اصحاب شدید حرج اور مشقت کی حالت میں مبتلا رہے۔ جب ان کے دشمن ان کی تلاش میں ہر طرف پھیل گئے تاکہ ان کو پکڑ کر قتل کر دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نصرت نازل فرمائی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ﴾ ’’جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔‘‘ یعنی جب نبی اکرمﷺ نے اپنے ساتھی حضرت ابوبکرt سے، جبکہ وہ سخت غم زدہ اور قلق کا شکار تھے..... فرمایا:﴿ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا﴾ ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد، نصرت اور تائید ہمارے ساتھ ہے۔ ﴿فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ ﴾ ’’پس اتاری اللہ نے اپنی طرف سے اس پر سکینت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ثابت قدمی، طمانیت اور ایسا سکون نازل فرمایا جو دل کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے جب آپ کا ساتھی گھبرایا تو آپ نے اس کو پرسکون کرتے ہوئے فرمایا ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘﴿ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡهَا﴾’’اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں ‘‘ اور وہ معزز فرشتے تھے جن کو اللہ نے آپ کا محافظ بنا دیا۔﴿ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا السُّفۡلٰى﴾’’اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار کو ساقط اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا کیونکہ کفار سخت غضب ناک تھے اور رسول اللہﷺ پر سخت غصہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کو گرفتار کر کے قتل کر سکتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی مدافعت فرما کر آپ کو اپنی نصرت سے نوازا۔ یہی وہ مدد ہے جس کا اس مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ مدد کی دو قسمیں ہیں ۔(۱)جب مسلمان دشمن کو زک پہنچانے کے خواہش مند ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش اور مقصد کو پورا کرتا ہے اور وہ اپنے دشمن پر غالب آجاتے ہیں ۔(۲)مدد کی دوسری قسم مستضعفین کی مدد ہے جن کو ان کا طاقتور دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو آپ سے دور کر کے اور دشمن سے آپ کا دفاع کر کے آپ کی مدد فرمائی اور شاید مدد و نصرت کی یہ قسم سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کی مدد کرنا، جب کفار نے دونوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا.... نصرت کی اسی نوع میں شمار ہوتا ہے۔﴿ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الۡعُلۡيَا﴾ ’’اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات قدریہ اور کلمات دینیہ دیگر تمام کلمات پر غالب ہیں ۔ اس مفہوم کی چند دیگر آیات یہ ہیں ۔ ﴿ وَؔكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(الروم: 30؍47) ’’اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ﴾(غافر:40؍51) ’’ہم اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے، دنیا کی زندگی میں اور جس روز گواہ (گواہی دینے کے لیے) کھڑے ہوں گے، ضرور مدد کریں گے۔‘‘ ﴿وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 37؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘پس اللہ تعالیٰ کا دین واضح دلائل، حیرت انگیز آیات اور تائید کرنے والے براہین کے ذریعے سے تمام ادیان پر غالب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ﴾ ’’اور اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب آسکتا ہے، نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ ﴿ حَكِيۡمٌ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے وہ کبھی کبھی اپنے گروہ کی مدد کو کسی دوسرے وقت تک موخر کر دیتا ہے جس کا تقاضا حکمت الہیہ کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں جناب ابوبکر صدیقt کی فضیلت میں ایک ایسی خصوصیت بیان کی گئی ہے جو اس امت کے کسی اور فرد میں نہیں اور وہ ہے یہ منقبت جلیلہ اور صحبت جمیلہ... اور تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کریمہ سے یہی مراد ہے۔ بنابریں جن لوگوں نے ابوبکر صدیقt کی صحبت کا انکار کیا انھوں نے ظلم و تعدی اور کفر کا ارتکاب کیا کیونکہ اس نے قرآن کا انکار کیا جو اس صحبت کی تصریح کرتا ہے۔اس آیت کریمہ سے سکینت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مصیبت اور خوف کے اوقات میں جب دل پریشان ہو جاتے ہیں تو سکینت اللہ تعالیٰ کی نعمت کاملہ ہے۔ یہ نعمت کاملہ بندۂ مومن کو اس کی اپنے رب کی معرفت، اپنے رب کے سچے وعدے پر اعتماد، اپنے ایمان اور اپنی شجاعت کے مطابق عطا ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حزن کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور صدیقین کو بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ بایں ہمہ جب بندۂ مومن پر یہ کیفیت نازل ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ اس کیفیت کو دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حزن بندے کے دل کو کمزور اور اس کی عزیمت کو پراگندہ کر دیتا ہے۔