کوچ کرو تم، ہلکے بھی اور بھاری بھی اور جہاد کرو ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہوتم علم رکھتے(41)اگر ہوتا مال جلد مل جانے والا اورسفر(بھی) درمیانہ تو ضرور پیروی کرتے وہ آپ کی لیکن دور دکھائی دی ان کو مسافت اور عنقریب وہ قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہم استطاعت رکھتے تو ضرور نکلتے ہم تمھارے ساتھ، ہلاک کررہے ہیں وہ اپنی ہی جانوں کواور اللہ جانتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں(42)
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ اِنۡفِرُوۡا خِفَافًا وَّثِقَالًا﴾ ’’نکلو ہلکے اور بوجھل‘‘ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لیے نکلو۔ ﴿ وَّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ تمھیں علم ہو۔‘‘ یعنی گھر بیٹھ رہنے کی نسبت، جان و مال سے جہاد کرنا تمھارے لیے بہتر ہے کیونکہ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کا حصول، اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور اس کی فوج اور اس کے گروہ میں داخل ہونا ہے۔
[42]﴿ لَوۡ كَانَ ﴾ ’’اگر ہوتا‘‘ ان کا گھروں سے نکلنا ﴿ عَرَضًا قَرِيۡبًا﴾ ’’جلد حاصل ہوجانے والا سامان۔‘‘ یعنی دنیوی نفع (مال غنیمت) سہل الحصول ہوتا۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ ہوتا ﴿ سَفَرًا قَاصِدًا ﴾ ’’سفر ہلکا‘‘ قریب اور آسان۔ ﴿ لَّاتَّبَعُوۡكَ ﴾ تو (زیادہ مشقت نہ ہونے کی وجہ سے) ضرور آپ کی پیروی کرتے۔ ﴿ وَلٰكِنۢۡ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ الشُّقَّةُ﴾’’لیکن لمبی نظر آئی ان کو مشقت‘‘ یعنی مسافت بہت طویل تھی اور سفر پرصعوبت تھا، لہٰذا وہ آپ کے ساتھ جہاد میں شرکت چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ اور یہ عبودیت کی علامات نہیں ہیں ۔ بندہ درحقیقت ہر حال میں اپنے رب کا عبادت گزار ہے، عبادت خواہ مشکل ہو یا آسان وہ اپنے رب کی عبودیت کو قائم کرتا ہے۔ یہی بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے۔﴿ وَسَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو ضرور آپ کے ساتھ نکلتے۔‘‘ یعنی وہ جہاد کے لیے نہ نکلنے اور پیچھے رہ جانے پر قسمیں اٹھا کر کہیں گے کہ وہ معذور تھے اور وہ جہاد کے لیے نکلنے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ﴿ يُهۡلِكُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ﴾ ’’اپنے تئیں ہلاک کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے، جھوٹ بولنے اور خلاف واقع خبر دینے پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔‘‘یہ عتاب منافقین کے لیے ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہو کر پیچھے بیٹھ رہے اور مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کیے۔ رسول اللہﷺ نے ان منافقین کو آزمائے بغیر کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے، ان کے محض معذرت پیش کرنے پر معاف فرما دیا، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان منافقین کا عذر قبول کرنے کی جلدی پر آپ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔