Tafsir As-Saadi
9:43 - 9:45

معاف کردیا اللہ نے آپ کو، کیوں اجازت دی آپ نے ان کو؟ یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے آپ کے لیے وہ لوگ جو سچے تھے اورجان لیتے آپ جھوٹوں کو(43) نہیں اجازت مانگتے آپ سے وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور یوم آخرت پر، اس سے کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاوراللہ خوب جاننے والا ہے پرہیز گاروں کو(44)بے شک اجازت تو وہی مانگتے ہیں آپ سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ اور یوم آخرت پراور شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کے دل، پس وہ اپنے شک میں پڑے تردد کررہے ہیں(45)

[43]﴿ عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَ﴾ ’’اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا‘‘ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ ﴾ ’’آپ نے (انھیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔‘‘ ﴿ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’حتیٰ کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں ۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے۔ بلکہ بغیر کسی عذر کے جہاد ترک کرنے کی اجازت مانگنا تو کجا، بغیر کسی ترغیب کے، ایمان اور بھلائی میں ان کی رغبت انھیں جہاد پر آمادہ رکھتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور اللہ متقین کو خوب جانتا ہے‘‘پس وہ انھیں اس بات کی جزا دے گا کہ انھوں نے تقویٰ کو قائم رکھا۔ متقین کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے آگاہ فرمایا کہ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ جہاد چھوڑنے کی اجازت نہیں مانگتے۔
[45]﴿اِنَّمَا يَسۡتَاۡذِنُكَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’آپ سے رخصت تو صرف وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘ یعنی ان کے اندر ایمان کامل اور یقین صادق نہیں ہے اسی لیے بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہے۔ قتال کے بارے میں وہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حاجت محسوس کرتے ہیں کہ وہ قتال ترک کرنے کی اجازت طلب کریں ۔ ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے شک میں متردد رہتے ہیں ۔‘‘