Tafsir As-Saadi
9:55 - 9:57

پس نہ حیرت میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اورنہ ان کی اولاد، یقینا ارادہ کرتا ہے اللہ کہ عذاب دے ان کو ان کی وجہ سے دنیا کی زندگی ہی میں اور نکلیں ان کی جانیں، اس حال میں کہ وہ کافر ہوں(55) اور قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی کہ بے شک وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ نہیں ہیں وہ تم میں سے لیکن وہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ڈرتے ہیں(56) اگر پائیں وہ کوئی جائے پناہ یا غاریں یا کوئی اور گھس بیٹھنے کی جگہ تو ضرور بھاگ جائیں وہ اس کی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے(57)

[55] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں ۔ مال اور اولاد کی ایک ’’برکت‘‘ ان پر یہ ہوئی کہ انھوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا:﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔‘‘ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انھیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی مشقتوں سے کریں تو ان لذتوں کی ان مشقتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں اور ان لذات نے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیا ہے اس لیے یہ ان کے لیے اس دنیا میں بھی وبال ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا وبال یہ ہے کہ ان کا دل انھی لذات میں مگن رہتا ہے اور ان کے ارادے ان لذات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ لذات ان کی منتہائے مطلوب اور ان کی مرغوبات ہیں ، ان کے قلب میں آخرت کے لیے کوئی جگہ نہیں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ یہ لوگ دنیا سے اس حالت میں جائیں ﴿ وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور جب ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں ۔‘‘ یعنی اس حالت میں ان کی جان نکلے کہ ان کا رویہ انکار حق ہو۔ تب اس عذاب سے بڑھ کر کون سا عذاب ہے جو دائمی بدبختی اور کبھی دور نہ ہونے والی حسرت کا موجب ہے؟
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمۡ لَمِنۡكُمۡ١ؕ وَمَا هُمۡ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ‘‘ ان کی قسمیں اٹھانے میں ان کا مقصد یہ ہے ﴿ قَوۡمٌ يَّفۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوفزدہ ہیں ‘‘یعنی وہ گردش ایام سے خائف ہیں اور ان کے دل ایسی شجاعت سے محروم ہیں جو ان کو اپنے احوال بیان کرنے پر آمادہ کرے۔ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر انھوں نے اپنا حال ظاہر کر دیا اور کفار سے براء ت کا اظہار کر دیا تو ہر طرف سے لوگ ان کو اچک لیں گے۔ رہا وہ شخص جو دل کا مضبوط اور مستقل مزاج ہے تو یہ صفات اسے اپنا حال... خواہ وہ اچھا ہو یا برا.... بیان کرنے پر آمادہ رکھتی ہیں ۔ مگر اس کے برعکس منافقین کو بزدلی کی خلعت اور جھوٹ کا زیور پہنا دیا گیا ہے۔
[57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ يَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً ﴾ ’’اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں ‘‘ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ اَوۡ مَغٰرٰتٍ ﴾ ’’یا کوئی غار‘‘ جس میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿ اَوۡ مُدَّخَلًا﴾ ’’یا سرگھسانے کی جگہ‘‘ یعنی انھیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیں ﴿ لَّوَلَّوۡا اِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُوۡنَ ﴾ ’’تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے‘‘ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں ۔