Tafsir As-Saadi
9:61 - 9:63

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایذاء دیتے ہیں نبی کو اور کہتے ہیں، وہ تو کان ہے کہہ دیجیے! (وہ) کان ہے بھلائی کا تمھارے لیے، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین رکھتا ہے مومنوں(کی باتوں) پر اور رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سےاور وہ لوگ جو ایذاء دیتے ہیں رسول اللہ کو، ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(61) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمھارے سامنے تاکہ راضی کریں تمھیں، حالانکہ اللہ اوراس کا رسول زیادہ حق دار ہے اس کا کہ وہ اس کو راضی کریں، اگر ہیں وہ مومن(62) کیا نہیں معلوم ہوا انھیں کہ بے شک جو مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو بلاشبہ اس کے لیے ہے آگ جہنم کی، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں، یہ ہے رسوائی بہت بڑی(63)

[61] یعنی یہ منافقین ﴿ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِيَّ ﴾ ’’جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو ردی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرمﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌؔ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا)ہے۔‘‘اور انھیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لیے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کر لیتے ہیں کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں ، یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیر نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا..... اللہ ان کا برا کرے.... کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں ۔ کیونکہ اگر ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذرتوں پر اکتفا کریں ۔ پس انھوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا۔(۱) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی (ﷺ )کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی راہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تشریف لائے۔(۲)وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔(۳) وہ نبی کریمﷺ کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کر سکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند، بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمھاری بہتری کے لیے‘‘ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپﷺ اسے قبول فرما لیتے ہیں ۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور بہت سے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، جو جھوٹے عذر پیش کرتے تھے تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾(التوبۃ: 9؍95) ’’جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۔‘‘رہی یہ حقیقت کہ آپﷺ کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر‘‘ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے۔ ﴿ وَرَحۡمَةٌ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ﴾ ’’اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے‘‘ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں ۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انھوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں ۔‘‘ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ دنیا و آخرت میں ۔ اور دنیا میں ان کے لیے دردناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔
[62]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوۡؔكُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکہ تمھیں راضی کریں ‘‘ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں ۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَحَقُّ اَنۡ يُّرۡضُوۡهُ اِنۡ كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ ان کو راضی کریں اگر وہ مومن ہوں ‘‘ کیونکہ بندۂ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا۔
[63] اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لیے سخت وعید ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّهٗ مَنۡ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہو جائے ﴿ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡخِزۡيُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔‘‘جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کر لیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ!