Tafsir As-Saadi
9:75 - 9:78

اوربعض ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے عہد کیا اللہ سے ، البتہ اگر دیا ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے تو ہم ضرور صدقہ خیرات کریں گے اور ہوجائیں گے ہم صالحین میں سے(75)پس جب نواز دیا اس نے ان کو اپنے فضل سے تو بخل کیا انھوں نے اس کے ساتھ اور پھر گئے اور وہ روگرداں تھے(76)پس سزا دی انھیں اللہ نے نفاق (ڈال کر) ان کے دلوں میں، اس دن تک کہ ملیں گے وہ اس سے ، بسبب ان کے خلاف ورزی کرنے کے اللہ سے اپنے وعدے کی اور بسبب اس کے جو تھے وہ جھوٹ بولتے(77) کیا نہیں معلوم انھیں کہ یقینا اللہ جانتا ہے بھید ان کے اور سرگوشیاں ان کی اور یہ کہ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے غیب کی باتوں کو؟(78)

[75] ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿ لَىِٕنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے‘‘ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔
[76]﴿فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے‘‘ تو انھوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿ بَخِلُوۡا بِهٖ﴾ ’’بخل کیا ساتھ اس کے‘‘ ﴿ وَتَوَلَّوۡا ﴾ اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ روگردانی کرنے والے تھے‘‘ یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنے والے۔
[77] جب انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ ﴿ فَاَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقًا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس بطور سزا کر دیا نفاق ان کے دلوں میں ‘‘ یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوۡهُ وَبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘ پس بندۂ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے، اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں ، جو کہ صحیحین میں ثابت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث: 33)پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کر کے بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔
[78] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چنانچہ فرمایا ﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰىهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو۔‘‘پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنھیں وہ جانتا ہے۔یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ’’ثعلبہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔رسول اللہﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کر دیا۔پس جب وہ رسول اللہﷺ کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ’’یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے۔‘‘..... پس اس نے زکاۃ ادا نہ کی، زکاۃ کے تحصیل دار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یَا وَیْحَ ثَعْلبۃ) ’’افسوس ثعلبہ کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا، چنانچہ وہ زکاۃ لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد وہ زکاۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیقt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکرt نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکرt کی وفات کے بعد حضرت عمرt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانt کے عہد میں مر گیا۔(ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم، بیہقی‘ قرطبی‘ ہیثمی‘ عراقی‘ ابن حجر‘ سیوطی اور امام مناوی رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔اس قصے کی سند میں علی بن یزید‘ معان بن رفاعہ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزمa نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: المحلی: 11؍208، الاصابۃ: ترجمۃ ثعلبہ، مجمع الزوائد: 7؍32، الجامع لأحکام القرآن: 8؍210، فیض القدیر: 4؍257، فتح الباری: 3؍8، لباب النقول للسیوطی: 121، و تخریج الإحیاء للعراقي: 3؍338. (از محقق) اس لیے اس سے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاریt کو مراد لینا، یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کابیان ہے۔ (ص۔ی)