وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں فراخ دلی سے خیرات کرنے والے مومنوں پر، (ان کے) صدقات میں اور ان پر جو نہیں پاتے سوائے اپنی (تھوڑی سی) محنت مزدوری کے اور ٹھٹھا کرتے ہیں ان سے، ٹھٹھا کرے گا اللہ بھی ان سےاوران کے لیے عذاب ہے درد ناک(79)(برابر ہے) آپ مغفرت مانگیں ان کے لیے یا نہ مغفرت مانگیں ان کے لیے ، اگرآپ مغفرت مانگیں گے ان کے لیے ستر مرتبہ بھی تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ اوراس کے رسول کےاور اللہ نہیں ہدایت دیتا نافرمان لوگوں کو(80)
[79] یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے ...اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کر سکتے ہوں تو وہ ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے طعن و تشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے...‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی ﴿ اَلَّذِيۡنَ يَلۡمِزُوۡنَ ﴾ ’’جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں ‘‘ ﴿الۡمُطَّوِّعِيۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ فِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے)صدقات میں ۔‘‘ پس کہتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریاکاری اور فخر کا اظہار ہے۔﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ اِلَّا جُهۡدَهُمۡ ﴾ ’’جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے‘‘ پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ منافقین کہتے ’’اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بے نیاز ہے۔‘‘﴿ فَيَسۡخَرُوۡنَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔‘‘ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا ﴿ سَخِرَ اللّٰهُ مِنۡهُمۡ١ٞ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کر دیے ہیں جن سے بچنا ضروری تھا۔ (۱) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انھیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کر سکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(النور: 24؍19) ’’جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (۲)وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔(۳)طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔(۴)جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔(۵)اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہو سکتی ہے؟(۶) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔‘‘ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ.... اگرچہ ان سے بے نیاز ہے لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں .... فرماتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ﴾(الزلزال: 99؍7) ’’پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا‘‘چنانچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، وہ بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
[80]﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً ﴾ ’’آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں ، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے‘‘ ستر مرتبہ کا لفظ مبالغہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ورنہ اس کا مفہوم مخالف نہیں ہے ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ ’’تب بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا ﴿سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ اَسۡتَغۡفَرۡتَ لَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ لَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(المنافقون: 63؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے آپ ان کے لیے مغفرت مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو ان کی مغفرت سے مانع ہے چنانچہ فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا‘‘ اور کافر جب تک اپنے کفر پر قائم ہے اسے کوئی استغفار کام دے سکتا ہے نہ کوئی نیک عمل۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی فسق جن کا وصف بن چکا ہے جو فسق و فجور کے سوا کوئی اور چیز نہیں چن سکتے، جو اس کا بدل نہیں چاہتے۔ ان کے پاس واضح حق آتا ہے مگر یہ اسے ٹھکرا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیتا ہے۔