Tafsir As-Saadi
9:81 - 9:83

خوش ہوئے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، اپنے بیٹھ رہنے پر، بعد(جانے) رسول اللہ کے اورانھوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اوراپنی جانوں کے، اللہ کی راہ میں اور کہا انھوں نے ، نہ کوچ کرو تم (اس) گرمی میں، کہہ دیجیے! آگ جہنم کی (اس سے بھی) زیادہ سخت ہے گرمی میں، اگر ہوں وہ سمجھتے(81) پس چاہیے کہ ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ، بدلے میں ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(82) پس اگر واپس لے آئے آپ کو اللہ کسی گروہ کی طرف ان (منافقین) میں سے اور اجازت مانگیں وہ آپ سے نکلنے کی تو کہہ دیجیے! ہر گز نہ نکلو گے تم میرے ساتھ کبھی بھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ (مل کر) دشمن سے، بے شک تم راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر پہلی مرتبہ، سو بیٹھو (اب بھی) پیچھے رہنے والوں کے ساتھ(83)

[81] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ۠ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر‘‘ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ﴿ وَكَرِهُوۡۤا اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾’’اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں ‘‘ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں .... خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو.... تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں ، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں ﴿ لَا تَنۡفِرُوۡا فِي الۡحَرِّ﴾ ’’نہ کوچ کرو گرمی میں ‘‘ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لیے باہر نکلنا ہمارے لیے مشقت کا باعث ہے۔ پس انھوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا جا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کر لیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے‘‘
[82] کیونکہ انھوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انھوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہو جانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَلۡيَضۡحَكُوۡا قَلِيۡلًا وَّلۡيَبۡكُوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ‘‘ یعنی اس ختم ہو جانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں ۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہو جائیں وہ عنقریب دردناک عذاب میں خوب روئیں گے ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’بدلہ اس کا جو کماتے تھے‘‘ انھوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سرانجام دیے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔
[83]﴿ فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انھیں کوئی حزن و ملال نہ تھا ﴿ فَاسۡتَاۡذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ ﴾ ’’پس وہ اجازت چاہیں آپ سے نکلنے کی‘‘ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لیے آپ سے اجازت طلب کریں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ ’’تو ان سے کہیے‘‘ یعنی سزا کے طور پر۔ ﴿ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِيَ عَدُوًّا﴾ ’’تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰؔلِفِيۡنَ ﴾ ’’تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے)۔‘‘کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چنانچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔اس آیت کریمہ میں ان کے لیے تعزیر بھی ہے کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کر دیے گئے ہیں تو یہ چیز ان لوگوں کے لیے بھی زجروتوبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہو گی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔