Tafsir As-Saadi
9:69 - 9:70

(تم منافقو!) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوئے، تھے وہ زیادہ سخت تم سے قوت میں اورزیادہ تھے مال اور اولاد میں۔ پس فائدہ اٹھایا انھوں نے ساتھ اپنے حصے کےاور فائدہ اٹھایا تم نے بھی ساتھ اپنے حصے کے، جیسے فائدہ اٹھایا تھا ان لوگوں نے جو تم سے پہلے تھے، ساتھ اپنے حصے کے اور تم بھی فضول بحث میں الجھے، جیسے وہ فضولیات میں الجھے رہے، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے ان کے عمل دنیا اور آخرت میں اور یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(69) کیا نہیں آئی ان کو خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے ہوئے؟ قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور قوم ابراہیم اور مدین والوں اورالٹی بستیوں والوں کی، آئے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ، پس نہیں ہے اللہ کہ ظلم کرتا ان پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(70)

[70,69] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے، اے منافقو! تمھارا حال تم جیسے ان منافقین کی مانند ہے جنھوں نے تم سے پہلے نفاق اور کفر کا ارتکاب کیا۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور، تم سے زیادہ دولت مند اور تم سے زیادہ اولاد والے تھے۔ ان کے لیے جو حظوظ دنیا (دنیوی منافع اور حصے) مقدر کیے گئے تھے انھوں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے تقویٰ سے روگردانی کی۔ انبیائے کرام کے ساتھ نہایت حقارت اور استخفاف کے ساتھ پیش آئے اور اپنے اور انبیائے کرام کے معاملہ میں ان کا خوب تمسخر اڑایا۔ تم نے بھی دنیا کی لذتوں سے، جو تمھارے لیے مقدر کی گئی تھیں ، خوب فائدہ اٹھایا جیسے پہلے لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ تم بھی باطل اور ان منکرات میں ڈوبے ہوئے ہو جن میں تمھارے پیشرو ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے اعمال اکارت گئے اور ان اعمال نے ان کو دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ سراسر خسارے میں رہے۔ تم بھی سوء حال و مآل اور برے انجام میں انھی کی مانند ہو۔ ﴿فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ ﴾ ’’تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔‘‘ یعنی اپنے دنیاوی نصیب سے۔ اللہ تعالیٰ کی مراد کو نظر انداز کرتے ہوئے تم نے لذت و شہوت کے پہلو سے دنیا کو استعمال کیا۔ اس نصیبِ دنیا سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مدد لی، تمھارا عزم اور ارادہ ان دنیاوی نعمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں نے کیا تھا ﴿ وَخُضۡتُمۡ كَالَّذِيۡ خَاضُوۡا﴾ ’’اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔‘‘ یعنی تم بھی (پہلوں کی طرح) باطل اور جھوٹ میں مستغرق ہو اور حق کو ناکام کرنے کے لیے تم باطل کے ذریعے سے جھگڑتے ہو۔ پس یہ ہیں ان کے اعمال و علوم، نصیبِ دنیا سے استفادہ کرنا اور باطل میں مستغرق رہنا۔ اس لیے یہ بھی عذاب اور ہلاکت کے مستحق ہیں جیسے پہلے لوگ اس ہلاکت کے مستحق ٹھہرے جن کے وہی کرتوت تھے جو ان کے ہیں ۔ رہے اہل ایمان... اگر انھوں نے دنیاوی نعمتوں میں اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا ہے.... تو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مدد لینے کے لیے۔ رہے ان کے علوم تو یہ درحقیقت انبیاء و رسل کے علوم ہیں جو تمام مطالب عالیہ میں یقین کی منزل تک پہنچاتے ہیں اور باطل کو سر نگوں کرنے کے لیے حق کے ذریعے سے مجادلہ کی راہ پر گامزن کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ منافقین کو اس عذاب سے ڈراتا ہے جو ان سے پہلے جھٹلانے والی قوموں پر نازل ہوا تھا۔ جیسے قوم نوح ، عاد ، ثمود ، قوم ابراہیم ، اصحاب مدین اورالمؤتفکات ، یعنی قوم لوط کی بستیاں ﴿ اَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان سب کے پاس ان کے رسول واضح اور روشن حق لے کر آئے جو تمام اشیاء کے حقائق کو بیان کرتا ہے مگر انھوں نے اس حق کو جھٹلایا، تب ان پر وہی عذاب نازل ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، پس تمھارے اعمال بھی ان کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں تھا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی جسارت کی، اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر سرکش اور جبار کی بات کے پیچھے لگ گئے۔