Tafsir As-Saadi
9:71 - 9:72

اور مومن مرد اور مومن عورتیں، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، حکم دیتے ہیں وہ نیک کام کا اور روکتے ہیں برے کام سے اور قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃاور اطاعت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی، یہی لوگ ہیں، ضرور رحم فرمائے گا ان پر اللہ، بے شک اللہ ہے بہت زبردست خوب حکمت والا(71) وعدہ کیا ہے اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور پاکیزہ مکانوں کا، ہمیشہ رہنے والے باغوں میں اور رضا مندی اللہ کی سب سے بڑھ کر ہوگی، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(72)

[71] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ ﴾ ’’اہل ایمان مرد اور عورتیں ‘‘ ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔‘‘ یعنی محبت، موالات، منسوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والی و مددگار ہیں ۔ ﴿ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں ‘‘ ’’المعروف‘‘ ہر ایسے کام کے لیے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً: عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ۔ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے خود داخل ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے روکتے ہیں ‘‘ اور ہر وہ کام جو ’’المعروف‘‘ کے خلاف اور اس کے منافی ہو ’’المنکر‘‘ کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً: عقائد باطلہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق رذیلہ وغیرہ۔ ﴿ وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں داخل کرے گا اور انھیں اپنے احسان سے نوازے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ طاقتور اور غالب ہے، طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے، وہ ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ تخلیق کرتا ہے اور جو کچھ حکم دیتا ہے، اس پر اس کی حمد بیان کی جاتی ہے۔
[72] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس ثواب کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ‘‘ ان جنتوں میں ہر نعمت اور ہر فرحت جمع ہے اور تمام تکلیف دہ چیزوں سے بالکل خالی ہے، اس کے محلات، گھروں اور درختوں کے نیچے سے گہری نہریں بہہ رہی ہیں جو خوبصورت باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ان جنتوں میں جو بھلائیاں ہیں انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ اور وہ کسی اور جگہ منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’اور ستھرے مکانوں کا، ہمیشہ کے باغوں میں ‘‘ ان مسکنوں کو آراستہ اور خوبصورت بنا کر اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت کے نظارے، اس کی منازل اور آرام گاہیں بہت خوبصورت ہیں ۔ بلند مرتبہ مساکن کے تمام آلات اور ساز و سامان ان کے اندر مہیا کیے گئے ہیں ۔ تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی تمنا نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے بالا خانے تیار کر رکھے ہیں جو انتہائی خوبصورت اور پاک صاف ہیں ۔ جن کے اندر سے باہر کا نظارہ کیا جا سکے گا اور باہر سے اندر دیکھا جا سکے گا۔ پس یہ خوبصورت مساکن اس لائق ہیں کہ نفس ان میں سکون حاصل کریں ، دل ان کی طرف کھنچتے چلے آئیں اور ارواح ان کی مشتاق ہوں، اس لیے کہ وہ جنت عدن میں مقیم ہوں گے اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ کوچ کرنا اور کسی اور جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے۔﴿ وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کی رضامندی‘‘ جو وہ اہل جنت پر نازل فرمائے گا۔ ﴿ اَكۡبَرُ﴾ ’’سب سے بڑی ہوگی‘‘ ان تمام نعمتوں سے جو ان کو حاصل ہوں گی۔ ان کو حاصل ہونے والی تمام نعمتیں ان کے رب کے دیدار اور اس کی رضا کے بغیر اچھی نہ لگیں گی اور یہ وہ غایت مقصود ہے، عبادت گزار جس کا قصد رکھتے ہیں اور یہ وہ منتہائے مطلوب ہے، اہل محبت جس کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ پس زمین و آسمان کے رب کی رضا جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ کیونکہ ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوگا۔ ان سے ہر خوف دور ہوگا۔ ان کے تمام معاملات خوبصورت اور خوشگوار ہوں گے.... ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے جود و کرم سے ہمیں بھی ان کی معیت نصیب فرمائے۔