اے نبی! جہاد کیجیے کافروں اور منافقوں سے! اور سختی کیجیے ان پر!اوران کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے لوٹ کر جانے کی(73) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ نہیں کہی انھوں نے (کوئی بات) حالانکہ ضرور کہی انھوں نے بات کفر کی اور کفر کیا انھوں نے بعد اپنے اسلام کے اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کا جو وہ حاصل نہ کر سکے اورنہیں غصہ نکالا انھوں نے مگر اس بات پر کہ غنی کر دیا انھیں اللہ نے اوراس کے رسول نے اپنے فضل سے، پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ہوگا بہتر ان کے لیے اور اگر وہ منہ پھیریں تو عذاب دے گا ان کو اللہ عذاب بہت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے لیے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(74)
[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں ‘‘ بھرپور جہاد۔ ﴿ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر سختی کریں۔‘‘ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں ۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالادستی قبول کرتا ہے تو اس کے خلاف دلیل و برہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محاسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ﴿ وَ ﴾ اور آخرت میں تو ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ﴾ ’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘
[74]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوۡا١ؕ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡكُفۡرِ ﴾ ’’قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے نہیں کہا اور بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا‘‘ یعنی جب انھوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا ﴿لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾(المنافقون: 63؍8) ’’عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔‘‘اور وہ باتیں جو دین اور رسول (ﷺ ) کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں اٹھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انھوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡكُفۡرِ وَكَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِهِمۡ ﴾’’بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہو گئے وہ اسلام لانے کے بعد‘‘ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کو ظاہری طور پر دائرہ کفر سے نکال دیا تھا مگر ان کا یہ آخری کلام اسلام کے متناقض ہے جو انھیں کفر میں داخل کر دیتا ہے۔﴿ وَهَمُّوۡا بِمَا لَمۡ يَنَالُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جو انھیں نہیں ملی‘‘ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب انھوں نے غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کو دھوکے کے ساتھ قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان کے منصوبے کے بارے میں آگاہ فرما دیا، چنانچہ آپ نے کسی کو حکم دیا اور اس نے ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ان کا حال یہ ہے ﴿ مَا نَقَمُوۡۤا ﴾ یعنی ’’وہ رسول اللہﷺ پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں ‘‘ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کر دیا۔ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی۔ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنۡ يَّتُوۡبُوۡا يَكُ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّتَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔‘‘ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں ۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا١ۙ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’تو عذاب دے گا اللہ ان کو دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں ‘‘ دنیا میں ان کے لیے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبیﷺ کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پاتے تو حزن و غم کا شکار ہو جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں ‘‘ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ جو تکلیف دہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرمان نصیبی ہی ان کا نصیب بن جاتی ہے۔