Tafsir As-Saadi
9:97 - 9:99

بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔
[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔
[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ‘‘ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَيَتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ﴾ ’’اور رسول کی دعائیں لینے میں ‘‘ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لیے رسولﷺ کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرۡبَةٌ لَّهُمۡ﴾ ’’سنو وہ بے شک ان کے لیے (موجب) قربت ہے۔‘‘ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے ﴿ سَيُدۡخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ﴾ ’’اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾’’بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے، اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لیے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انھیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انھیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔(۱)اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کر دیا اور اوامر و منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔(۲)کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔(۳)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص، اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس درشتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہیں ۔(۴) علم نافع، جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے، دین کے اصول و فروع کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں ، مثلاً:حدود ایمان، حدود اسلام، حدود احسان، تقویٰ، فلاح، اطاعت، نیکی، صلہ رحمی، بھلائی، کفر، نفاق، فسق و فجور، نافرمانی، زنا، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہو سکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہو سکتا ہے۔(۵) بندۂ مومن کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔