Tafsir As-Saadi
9:113 - 9:114

نہیں ہے لائق نبی کے اور (نہ) ان لوگوں کے جو ایمان لائے یہ کہ بخشش طلب کریں وہ( اللہ سے) مشرکوں کے لیے ، اگرچہ ہوں وہ قرابت دار ہی، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے یہ کہ بلاشبہ وہ دوزخی ہیں (113) اور نہیں تھا بخشش طلب کرنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مگر بوجہ ایک وعدے کے جو وعدہ کیا تھا ابراہیم نے اس سے، پھر جب واضح ہو گیا ابراہیم کے لیے یہ کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو بیزار ہو گیا ابراہیم اس سے، بے شک ابراہیم البتہ بہت آہ وزاری کرنے والے، بردبار تھے(114)

[113] یعنی نبیﷺ اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا۠ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠﴾ ’’کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔‘‘ ﴿ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اُولِيۡ قُرۡبٰى مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرمﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریمﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔
[114] اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا ﴿ عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم: 19؍47) ’’میں اپنے پروردگار سے آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ دعا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیمu نے اس وقت کیا تھا جب آنجنابu کو اپنے باپ کے انجام کا علم نہیں تھا۔جب ابراہیمu پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿ تَبَرَّاَ مِنۡهُ﴾ ’’تو اس سے بیزار ہوگئے۔‘‘ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ ابراہیمu بڑے نرم دل تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ﴾ ’’نہایت بردبار تھے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انھیں آپے سے باہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا: ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾(مریم: 19؍46) ’’میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ١ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ ﴾(مریم: 19؍47) ’’آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیمu کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیمu کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ﴾(الممتحنۃ: 60؍4) ’’ابراہیمu کے اس قول کے سوا جو انھوں نے باپ سے کہا تھا کہ میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: